Last Updated:

Shyok Times | اب خوش ہو ! 

Asif Naji Advocate Ab Khush Ho!

بلتستان کی تاریخ صرف چند دہائیوں یا ایک صدی پر محیط نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی تہذیبی، تجارتی اور ثقافتی تاریخ رکھتی ہے۔ یہ خطہ قدیم شاہراہِ ریشم کی شاخوں پر واقع تھا، جہاں وسط ایشیا، تبت، لداخ، کشمیر، چین اور جنوبی ایشیا کے تاجر، سیاح، زائرین، بدھ راہب، مبلغ، سفارت کار اور مہم جو آتے جاتے رہے۔ آج بھی بلتستان میں موجود بدھ مت کے قدیم سنگی نقوش، کتبے اور آثار اس بین الاقوامی آمدورفت کے گواہ ہیں۔ اس طویل تاریخ میں مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ اپنے اپنے لباس، زبان اور رسم و رواج کے ساتھ یہاں آتے رہے، لیکن تاریخ میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ ان کے لباس کو بلتستان کی شناخت یا سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہو۔
ڈوگرہ دور (1846ء تا 1947ء) میں جب برطانوی جغرافیہ دان، فوجی سروے ٹیمیں، ماہرینِ ارضیات اور کوہ پیما قراقرم کی طرف متوجہ ہوئے تو بلتستان عالمی سائنسی تحقیق کا مرکز بن گیا۔ برطانوی گریٹ ٹرائگونومیٹریکل سروے نے قراقرم کی بلند چوٹیوں کی پیمائش اور نقشہ سازی کی۔ بعد ازاں مارٹن کون وے، فرانسس ینگ ہسبینڈ، فینی بلک ورکمین، ڈیوک آف ابروزی اور دیگر محققین و کوہ پیما اسی خطے میں آئے۔ ان سب کے لباس اس زمانے کے یورپی معاشروں کی نمائندگی کرتے تھے، مگر بلتستان کے عوام نے انہیں ایک مہمان، محقق اور مسافر کے طور پر قبول کیا، نہ کہ ان کے لباس کی بنیاد پر ان کے خلاف مہم چلائی۔
پاکستان کے قبضے کے بعد بھی یہی روایت برقرار رہی۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں جب بین الاقوامی کوہ پیمائی اور سیاحت نے فروغ پایا تو دنیا بھر سے ہزاروں سیاح سکردو، خپلو، شگر، دیوسائی، خپلو، خپلو کے قلعوں، پی ٹی ڈی سی ہوٹل اور قراقرم کی وادیوں میں آتے رہے۔ وہ اپنے ممالک کے معمول کے لباس میں گھومتے، بازاروں میں خریداری کرتے، مقامی میلوں میں شریک ہوتے، بلکہ عاشورہ، اربعین اور دیگر مذہبی جلوسوں کا مشاہدہ بھی کرتے تھے۔ تصاویر بناتے تھے اکثر خواتین سیاح نیکر میں ہوتے تھے جنہیں ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا خاص طور پر پی ٹی ڈی سی ہوٹل اور مندر کے سامنے بیٹھ کر محرم اسد اور چہلم کے جلوسوں کی تصاویر اور ویڈیوز بناتے اس پورے عرصے میں لباس کبھی عوامی تنازع نہیں بنا۔
یہ تاریخی حقیقت ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے: اگر سیاحوں کا لباس بلتستان کے لیے واقعی اتنا بڑا مسئلہ تھا تو یہ مسئلہ ڈیڑھ دو سو برس تک کیوں پیدا نہیں ہوا؟
بلتستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ اب سیاحت سے وابستہ ہے۔ ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، مقامی دستکار، خشک میوہ جات کے تاجر، ٹور آپریٹر، پورٹر، گائیڈ اور ہزاروں نوجوان اسی صنعت سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر پہاڑی خطوں کی طرح بلتستان میں بھی سیاحت صرف تفریح نہیں بلکہ مقامی معیشت کا اہم ستون بن چکی ہے۔ ایسے میں اگر مسلسل یہ تاثر دیا جائے کہ بلتستان سیاحوں کے لیے غیر دوستانہ یا غیر محفوظ ماحول رکھتا ہے، تو اس کا براہِ راست اثر روزگار، سرمایہ کاری اور مقامی آمدنی پر پڑ سکتا ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ بعض حلقے سیاحوں کے لباس کو ایک غیر معمولی مسئلہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف سیاسی اور سماجی تجزیے موجود ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ایسے موضوعات عوام کی توجہ حقیقی مسائل—جیسے تعلیم، صحت، بے روزگاری، بنیادی حقوق، ماحولیات، گلیشیئرز کے تحفظ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم—سے ہٹانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس قسم کی مہمات سے بیرونی دنیا میں بلتستان کا ایسا تاثر قائم ہو سکتا ہے کہ گویا یہ خطہ سیاحت کے لیے مشکل یا غیر موزوں ہے، جس سے مقامی سیاحتی صنعت متاثر ہوتی ہے۔ ان آراء پر اختلاف ممکن ہے، لیکن یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ منفی تاثر کا معاشی نقصان مقامی آبادی ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔
بلتستان کی اصل طاقت اس کے برف پوش پہاڑ، قدیم تہذیب، رواداری، مہمان نوازی اور ثقافتی اعتماد میں ہے۔ ایک باشعور معاشرہ اپنی شناخت کا تحفظ خوف سے نہیں بلکہ اعتماد سے کرتا ہے۔اور ان ڈھائی سو برسوں میں کسی غیر ملکی سیاح کے لباس نے بلتستان کے معاشرے پر کوئی اثر نہیں ڈالا اگر اثر کسی چیز نے ڈالا ہے تو ظلم و جبر و استحصال غلامی کرپشن آفسر شاہی فرقہ واریت علاقائیت تعصب نفرت غربت جہالت شدت پسندی غیر ملکی جنگوں نے ڈالا ہے اگر ہم اپنی تاریخ کو سامنے رکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ بلتستان نے صدیوں تک دنیا بھر کے مسافروں کا استقبال کیا ہے۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حقیقی مسائل پر توجہ دینا اور مصنوعی تنازعات سے گریز کرنا ہی بلتستان کی معیشت، سماج اور مستقبل کے لیے زیادہ سودمند راستہ ہے۔

جو لوگ ہر سال سیاحوں کے لباس کی تصاویر اور ویڈیوز کو اچھال کر بلتستان کو دنیا کے سامنے ایک غیر دوستانہ خطہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں شاید اس سال خوشی ہوگی کہ K2 اور گاشر برم-I پر کوئی کامیاب سمٹ نہیں ہوئی۔ مگر انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاحوں کی کمی کا نقصان نہ K2 کو ہوتا ہے، نہ گاشر برم کو، بلکہ اس غریب پورٹر، ڈرائیور، ہوٹل مالک، گائیڈ، مزدور اور دکاندار کو ہوتا ہے جس کے گھر کا چولہا سیاحت سے جلتا ہے۔ جو بیانیہ بلتستان کی سیاحت کو نقصان پہنچائے، اس کے سیاسی یا نظریاتی فائدے خواہ کسی کو بھی ہوں، معاشی قیمت ہمیشہ بلتستان کے عوام ہی ادا کرتے ہیں۔
آصف ناجی ایڈووکیٹ