
مذہب کے نام پر استحصال اور انسانی وقار کا سوال | Shyok Times
مذہب، دولت اور انسانیت: گلگت بلتستان کے لیے ایک فکری سوال
جامع مسجد سکردو کے ساتھ ایک دوکان کے باہر لکھا ہوا تھا کہ یہاں ایرانی مال دستیاب ہے جاکر دیکھا تو ایرانی چاکلیٹ .شیمپو . شہد . ملائی خشک دودھ سمیت ساٹھ مختلف اشیا انتہائی کم قیمت پر دستیاب تھے
مذید معلومات لی تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایران کا صرف ڈیری فارمنگ کا آمدنی چھ ارب ڈالر . تیل کی امدنی پینتالیس ارب ڈالر ایک منٹ کے لئے بجلی بند نہیں ہوتا پٹرول بیس روپے لیٹر پورے ایران میں ایک بھیک مانگنے والا نہیں ان کا لائف سٹینڈر ہم سے دو ہزار فیصد بہتر اور جنگ کے دوران تمام چیزوں کی قیمتوں میں مذید کمی ایرانی خواتین اپنی ڈینٹنگ پینٹنگ یعنی میک اپ پر دو ارب ڈالر کا کاسمیٹک استعمال کرتا تھا اور اس ایران کے نام پر یہاں بجلی پانی خوراک تعلیم و صحت کی سہولیات سے محروم عوام تین وقت مناسب خوراک اور ٹی وائٹنر کمیکل اور بالاکوٹی گھی ملا نمکین چائے اور سبسڈی اٹا کا روٹی بڑی مشکل سے ملنے والی خواتین کی برین واشنگ کرکے ان سے زیورات گائے یہاں تک دینور کی ایک خاتون نے اپنا بچہ اور نگر کی ایک بیوہ کو اس کی جائیداد سے محروم کیا گیا
اب سمجھتے ہے کہ طالبان کس طرح برین واشنگ کرکے بیس بائیس سال کے لڑکوں کو خود کش حملہ اور بناتے رہے
بگ بورڈ . شیخ اعجاز پونیزی سکیم اور ایک پٹھان نے راولپنڈی چکری میں لمبا علم عباس نصب کرکے شیعہ بستی بنانے کے نام پر ہمارے کسی شیخ کے زیعے مذہبی ٹچ کے زریعے لوٹا
چلاس میں جب ڈیم کے پیسے ائے تو پاکستان سے لمبی لمبی ڈارھی اور ہاتھوں میں قیمتی تسبیح والے دو مختلف گروپ اکر سنی بستی بنانے کے لئے پلاٹ اور مبازہ یعنی پیسہ ڈبل کرنے کے نام پر اربوں روپے لوٹ کر رفو چکر ہوا ہے
تین سال قبل رحیم اباد کے ایک بزرگ ملنے ائے اس بے چارے کو کراچی سے شیعہ اسماعیلی خوجہ امام کا فرمان سنا سناکر اس کی قیمتی زمین امام کے فلاحی کاموں کے لئے سو سال کی لیز پر لیا تھا بعد میں پتہ چلا وہ لوگ علیم خان کے فرنڈ مین اور وہاں علیم خان نے جوس فیکٹری بنانا شروع کیا اور اس بزرک کو سکیورٹی گارڈ اپنی زمین سے لکڑی لانے اور محلہ والوں کو چلنے نہیں دیا جا رہا تھا
سننے میں آ رہا ہے صوفیہ اور امامیہ بھی پیسوں کا معاملہ ہے
میں بہت سارے ریٹائرڈ فوجی جوانوں کو جانتا ہوں جو پنشن انے کے بعد مذہبی ٹریول ایجنٹس اپنے کمیشن کے لئے حج پر لے جاکر ابھی دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہے
سادہ لوح مرد و خواتین زیارات مقدس مقامات عمرہ اور حج کے نام پر جائیداد فروخت کرنے پر مجبور کر رہے ہے
مختلف مزارات کی تزئین و آرائش چندہ بکس کے زیعے مردوں کے نام پر لوٹ مار کا بازار اب بھی گرم ہے جبکہ اسی استانے کا متولی علاج کے لئے ڈاکٹر اور ہسپتال کا محتاج ہے
یہاں بڑے عمر کے رنڈوے یا دوسری شادی کے خواہشمند سرمایہ دار اپنے من پسند لڑکیوں سے شادی رچانے کے لئے بھی مذہبی شخصیات سے مدد لیا جاتا ہے تاکہ تقدس کے لبادے میں اپنی خواہش پوری ہو
دنیا کے تمام مذاہب سے تقدس . پیسے کو نکال دیا جائے تو باقی کچھ نہیں بچتا
اور میرا خیال ہے کہ مذاہب انسانوں کے لئے ہے انسان مذاہب کے لئے نہیں
میری خواہش ہے کہ انڈین پی کے فلم کا بلتی اور شینا زبان میں ترجمہ کرکے گلگت بلتستان والوں کو ایک بار دکھایا جائے
میں تمام مذاہب .تمام مقدس شخصیات . تمام مقدس مقامات کا احترام کرتا ہوں مگر ایک جیتا جاگتا زندہ انسان سب سے ذیادہ مقدس اور محترم ہے
گرم چادریں مزارات کی بجائے انسانوں کو ڈھانپنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیئے تاکہ خدا کے بہترین تخلیق حضرت انسان سردی سے بچ سکیں
بقول اقبال
نہ تو زمین کے لئے ہے نہ آسمان کے لئے
جہاں ہے تیرے لئے . تو نہیں جہاں کے لئے





