Last Updated:

Shyok Times | میرے گلگت بلتستان کے عقل سے عاری جذباتی عبوریو

ایران اور سعودی عرب دونوں ہمارا برادر اسلامی ملک اور پاکستان و گلگت بلتستان کو اس نہج تک پہنچانے میں ,دونوں برابر کا حصہ دار ہے
ایران انقلاب اور ضیا الحق کا زکات و عشر آرڈینس کے بعد پاکستان کے شیعوں نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا بنیاد رکھا 
اس آڑ میں سعودی عرب کے تعاون سے لشکر جھنگوی نے چن چن کر شیعہ سکالرز . ڈاکٹرز اور انجنئیرز کا قتل عام کیا . انیس سو اٹھاسی میں گلگت بلتستان پر لشکر کشی اور پورے پاکستان میں کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے گونجنے لگے
سعودی عرب اور ایران نے  یہاں مدارس مساجد اور عبادت خانے قائم کرکے اپنا پراگسی وار جاری رکھا
اس کے برعکس کویت نے معرفی فاونڈیشن کے زریعے کراچی میں ہاسٹل کھولے اور اس وقت بلتستان کے تمام اہم عہدوں پر تعینات افیسرز معرفی ہاسٹل سے پڑھے ہوئے اور کویت میڈیکل کمپلکس بلتستان کے لئےایک تحفہ ہے اور اسماعیلی برادری کا حاضر امام نے اے کے ار ایس پی کے زریعے اپنے پیروکاروں کے لئے تعلیم و صحت کی سہولیات اور بلتستان میں غربت کے خاتمے کے لئے گرانقدر خدمات سر انجام دئے
ایران نے ہمیں مولانے دئے اور سعودی عرب نے صدقے خیرات اور نزرانے  دئے اگر یہ دونوں ممالک چاہتا تو غواڑی میں ایک میڈیکل کالج یا گلاب پور شگر میں ایک انجنیرنگ کالج یا سکردو میں یونیورسٹی اور کچھ نہ سہی تو بدترین لوڈ شیڈنگ سے نجات دلایا جا سکتا تھا
گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا اس قدر ذہن سازی کی گئی کہ یکم مارچ ایتہ اللہ خامنئی کی شہادت پر پورے پاکستان سے یو این او یا امریکی سفارت خانہ کی طرف مارچ کرنے پر ستائیس نوجوان جان بحق ہوئے جس میں سے اکیس  نوجوانوں کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا
ایران تیل سے مالامال اذاد ملک اور ہزاروں سال قدیمی تہذیب رکھتا ہے سعودیہ ایک امیر ترین اور دنیا کے فیصلے تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک کے لئے جب تئیس تئیس گھنٹے بد ترین لوڈ شینگ تعلیم و صحت بنیادی سہولیات اور اپنی شناخت  سے محروم گلگت بلتستان کے نوجوان  حمایت یا مخالفت میں بولتے . لکھتے اور ایک دوسرے سے جھگڑتے ہے تو مجھے سخت کوفت ہوتا ہے
ملکوں کے اپنے مفادات اور خارجہ پالیسیز ہوتا ہے امریکہ اور ایران کل کو معاہدہ ہو سکتا ہے 
سعودیہ اور ایران کے درمیان  تعلقات بہتر ہو سکتا ہے
کنگ سلمان کے انے کے بعد سعودیہ کافی بہتر ہوا ہے وہاں جوا خانے اور شراب خانے کھلنے لگے ہے انہوں نے بہت سارے احادیث کو من گھرٹ قرار دیا ہے اور ہم گلگت بلتستان والے ایک دوسرے کے درمیان نفرت امیز پوسٹ کرنے میں مصروف ہے
میں گلگت بلتستان کےنوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ گلگت بلتستان کا سوچیں گلگت بلتستان کا مستقبل کا سوچیں اور ہمارے آنے والے نسلوں کا سوچیں
سعودیہ اور ایران دونوں ہمارے کے لئے قابل احترام اور ان ملکوں کے فکر کے لئے ان کے اپنے سکالرز . سائنس دان .  پی ایچ ڈیز . علماکرام سیاستدان اور پالیسی میکرز  کافی ہے
دوستوں سے گزارش ہے مجھے لادین یہودی ایجنٹ یا الہ کار کہنےکی بجائے حقائق تسلیم کریں
شکریہ