
سانحہ سکردو: اہم پیشرفت، انصاف کے لیے احتجاج
سانحہ سکردو: انصاف کے لیے احتجاج، پولیس کی کارروائی میں اہم پیشرفت
سکردو: سانحہ سکردو میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کے قتل کے خلاف یادگارِ شہداء سکردو میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جبکہ شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مظاہرین نے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کی فوری گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ قتل کے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مظاہرین نے سوشل میڈیا پر شہداء کے لواحقین کو مبینہ دھمکیاں دینے والے عناصر کے خلاف بھی فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تحقیقات شفاف، غیر جانبدار اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
قتل کیس میں پولیس کی کارروائی، مزید ملزمان کی تلاش جاری
دوسری جانب سانحہ سکردو کی تحقیقات میں پولیس کو اہم پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔ پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں گرفتار ملزمان کو خیبر پختونخوا کے ضلع کرم سے سکردو منتقل کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
فراہم کردہ تازہ معلومات کے مطابق ابتدائی طور پر تین ملزمان کو سکردو منتقل کیا گیا، جبکہ بعد ازاں مزید دو ملزمان کو بھی سکردو لانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ مزید مبینہ ملزمان کی گرفتاری اور انہیں سکردو منتقل کرنے کے لیے خفیہ کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بھی کرم میں کارروائی کے دوران دو مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق واقعے کے دیگر مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔
شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ
سانحہ سکردو میں ایک ہی خاندان کے چار افراد، محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اور دو کمسن بچوں مہدی اور زہرا کے قتل نے علاقے میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔ واقعے کی تحقیقات میں مبینہ طور پر شادی کے تنازعے سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم حتمی محرکات کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
متاثرہ خاندان نے انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ذمہ داران کو گرفتار کرکے شفاف قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔





