Last Updated:

روندو: اسلم اور اہلِ خانہ کے قتل کے خلاف احتجاج، کاظم میثم کے مذاکرات کامیاب

سانحہ سکردو روندو: اسلم اور اہلِ خانہ کے قتل کے خلاف احتجاج، کاظم میثم کی متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی

روندو (سکردو): گلگت بلتستان کے ضلع روندو کے علاقے تلو میں اسلم اور ان کے اہلِ خانہ کے بہیمانہ قتل کے واقعے کے بعد ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا اور شاہراہِ قراقرم پر دھرنا دے دیا۔

اہلیانِ تلو، تلو بروق اور ملیار کے عوام نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوتے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔ ملزمان کی عدم گرفتاری اور ان کے فرار ہونے کے باعث علاقے میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔

کاظم میثم اور جسٹس علی بیگ کے مذاکرات، دھرنا ختم

واقعے کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن اور سابق قائدِ حزبِ اختلاف کاظم میثم لواحقین اور میت کے ہمراہ روندو روانہ ہوئے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کی گرفتاری تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

بعد ازاں کاظم میثم اور جسٹس علی بیگ نے متاثرہ خاندان کے ساتھ مذاکرات کیے، جو کامیاب رہے۔ مذاکرات کے نتیجے میں باہمی رضامندی سے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد شاہراہِ قراقرم کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔

دھرنا ختم ہونے کے بعد میت کو تدفین کے لیے تلو، بلوق روندو روانہ کر دیا گیا۔

ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ برقرار

اگرچہ مذاکرات کے بعد احتجاج ختم اور شاہراہِ قراقرم ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی، تاہم متاثرہ خاندان اور مقامی آبادی کا بنیادی مطالبہ بدستور ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی ہے۔

علاقہ مکینوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے