Last Updated:

سبق نمبر 13 🌱 زندگی کی کلاس — جو سکول نے نہیں سکھایا | Shyok Times

زندگی کی کلاس — سبق نمبر 13

 

انجینئر امتیاز بلتستانی (واشنگٹن ڈی سی
🇺🇸
)

 

موضوع: جس نے لالچ چھوڑ دی، وہ آزاد ہو گیا

 
انسان کی ایک عجیب عادت ہے۔ جب وہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسے ایک کھلونا چاہیے ہوتا ہے۔ کھلونا مل جائے تو دوسرا پسند آ جاتا ہے۔ پھر سائیکل چاہیے، پھر موٹر سائیکل، پھر گاڑی، پھر بڑا گھر… اور آخر میں وہی انسان آرام سے بیٹھ کر سوچتا ہے:
“یار! سکون آخر کہاں گیا؟”
شاید ہم میں سے بہت سے لوگ زندگی بھر اسی سوال کا جواب ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
اصل مسئلہ ہمیشہ غربت نہیں ہوتی، کبھی کبھی لالچ بھی انسان کو بے سکون رکھتی ہے۔
لالچ بڑی عجیب چیز ہے۔ اس کا کوئی آخری مقام نہیں ہوتا۔ آپ کے پاس ایک لاکھ ہیں تو دو لاکھ چاہیے۔ دو لاکھ ہو جائیں تو پانچ لاکھ۔ پانچ لاکھ ہو جائیں تو دس لاکھ۔
پھر انسان کہتا ہے:
“بس اتنا ہو جائے، پھر مزے ہیں!”
لیکن وہ “اتنا” کبھی آتا ہی نہیں۔
کیونکہ لالچ کا فارمولا بہت سادہ ہے:
جو ہے، وہ کم لگتا ہے؛
جو نہیں ہے، وہ بہت ضروری لگتا ہے۔
آپ کے پاس اچھی گاڑی ہے، لیکن دوست نئی گاڑی لے آئے تو اچانک اپنی گاڑی پرانی لگنے لگتی ہے۔
آپ کا گھر خوبصورت ہے، لیکن کسی نے اس سے بڑا گھر بنا لیا تو اپنے گھر کی خوبصورتی کم محسوس ہونے لگتی ہے۔
آپ کی آمدنی اچھی ہے، لیکن کسی دوسرے کی زیادہ ہے تو اپنی آمدنی کم لگنے لگتی ہے۔
پھر انسان اپنی زندگی جینے کے بجائے دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کا حساب لگانا شروع کر دیتا ہے۔
“اس کے پاس کیا ہے؟
اس نے کیا خریدا؟
وہ کہاں گیا؟
وہ کتنا کماتا ہے؟”
اور یوں انسان کے پاس چیزیں تو بڑھتی رہتی ہیں، لیکن دل کا سکون کم ہوتا جاتا ہے۔
کیا قناعت کا مطلب ترقی چھوڑ دینا ہے؟
بالکل نہیں۔
قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان محنت نہ کرے، کاروبار نہ بڑھائے یا بہتر زندگی کی کوشش نہ کرے۔
محنت کریں۔
زیادہ کمائیں۔
اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنائیں۔
اپنا گھر اچھا بنائیں۔
کاروبار بڑھائیں۔
لیکن فرق یہ ہے کہ آپ ترقی کریں، لالچ آپ کو کنٹرول نہ کرے۔
ایک شخص زیادہ کما سکتا ہے اور پھر بھی مطمئن ہو سکتا ہے۔
اور ایک شخص بہت کچھ رکھنے کے باوجود ہر وقت پریشان ہو سکتا ہے کہ:
“ابھی بھی کم ہے!”
یہی فرق ہے ضرورت اور لالچ میں۔
ضرورت کہتی ہے:
“مجھے اتنا چاہیے تاکہ زندگی آسان ہو جائے۔”
لالچ کہتی ہے:
“مجھے اس لیے اور چاہیے کیونکہ دوسرے کے پاس مجھ سے زیادہ ہے۔”
سب سے بڑی آزادی کیا ہے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ آزادی کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس بہت پیسہ ہو، بڑی گاڑی ہو یا کوئی ہمیں کچھ کہہ نہ سکے۔
لیکن کبھی کبھی سب سے بڑی آزادی یہ ہوتی ہے کہ:
آپ کو ہر چیز حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
آپ کے پاس جو ہے، آپ اس پر الحمدللہ کہہ سکیں۔
آپ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر جلنے کے بجائے ان کے لیے خوش ہو سکیں۔
آپ کسی مہنگی چیز کو دیکھ کر یہ نہ کہیں:
“یہ میرے پاس کیوں نہیں؟”
بلکہ یہ کہہ سکیں:
“ماشاءاللہ، اللہ اسے اور دے… اور جو میرے پاس ہے، اس میں بھی برکت دے۔”
یہ دل کی آزادی ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اس لالچ کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔
😄
کسی کی نئی گاڑی، کسی کا نیا گھر، کسی کی چھٹیوں کی تصاویر، کسی کا کاروبار، کسی کی کامیابی…
اور ہم موبائل ہاتھ میں پکڑ کر اپنی زندگی کا موازنہ ایسے لوگوں سے کرنے لگتے ہیں جن کی پوری زندگی ہمیں صرف 30 سیکنڈ کی Reel میں نظر آ رہی ہوتی ہے!
ہمیں نہیں معلوم وہ اندر سے کتنا پریشان ہے، کتنا قرض ہے، کتنی محنت ہے، یا کتنی مشکلات ہیں۔
ہم صرف اس کی highlight reel دیکھ کر اپنی پوری زندگی کو کم سمجھنے لگتے ہیں۔
اس لیے کبھی کبھی موبائل نیچے رکھیں، اردگرد دیکھیں اور سوچیں:
“میرے پاس پہلے ہی کتنی نعمتیں ہیں!”
صحت، گھر، خاندان، دوست، رزق، امن، وقت، سانس، ایمان، والدین، اولاد…
ہم جن چیزوں کو روزانہ معمول سمجھتے ہیں، دنیا میں کروڑوں لوگ ان کے لیے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔
اصل امیری کیا ہے؟
اصل امیری صرف بینک اکاؤنٹ کا بیلنس نہیں۔
اصل امیری یہ ہے کہ آپ کے دل کا بیلنس بھی مثبت ہو۔
پیسہ جیب میں ہو اور سکون دل میں۔
محنت زندگی میں ہو اور شکر زبان پر۔
خواہشیں ہوں، لیکن خواہشیں آپ کی مالک نہ بن جائیں۔
کیونکہ انسان جب لالچ کا غلام بن جاتا ہے تو اس کے پاس بہت کچھ ہونے کے باوجود اسے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کم لگتا رہتا ہے۔
لیکن جب وہ قناعت سیکھ لیتا ہے تو اچانک اسے احساس ہوتا ہے:
“میرے پاس تو پہلے ہی بہت کچھ تھا، میں بس دیکھ نہیں رہا تھا۔”
شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے:
جس نے لالچ چھوڑ دی، وہ غریب نہیں ہوا۔
اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی زنجیر توڑ دی۔
اور پھر…
وہ دوسروں سے مقابلہ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
وہ ہر چیز خریدنے کی دوڑ سے نکل جاتا ہے۔
وہ ہر کامیابی کو اپنی ناکامی نہیں سمجھتا۔
وہ اپنی نعمتوں کو دیکھنا شروع کرتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر…
اسے سکون مل جاتا ہے۔
📝
آج کا ہوم ورک:
آج رات صرف پانچ منٹ خاموش بیٹھیں اور خود سے ایک سوال کریں:
“میں اپنی زندگی میں کس چیز کے پیچھے ضرورت سے زیادہ بھاگ رہا ہوں؟”
پھر اپنی تین ایسی نعمتیں لکھیں جن کے لیے آپ دل سے الحمدللہ کہہ سکتے ہیں۔
شاید آپ کو احساس ہو کہ جس چیز کو حاصل کرنے کے لیے آپ اپنی زندگی کا سکون قربان کر رہے ہیں…
وہ اتنی قیمتی نہیں جتنا آپ کا سکون ہے۔
دعا:
یا اللہ! ہمارے دلوں کو حرص، لالچ اور دوسروں سے مقابلے کی بیماری سے محفوظ فرما۔ ہمیں حلال رزق، قناعت، شکر، برکت اور دل کا سکون عطا فرما۔ جو کچھ تو نے دیا ہے اس کی قدر کرنے والا بنا، اور جو نہیں ملا اس پر صبر عطا فرما۔ آمین۔
🤲
زندگی کی کلاس کا آج کا سبق:
زیادہ چیزیں ہمیشہ زیادہ خوشی نہیں دیتیں؛ کبھی کبھی کم خواہشیں ہی زیادہ سکون دیتی ہیں۔
❤️