
سکردو میں لوڈشیڈنگ: آخر کب تک نمائندوں کو وقت دیتے رہیں گے؟
:سکردو
مہدی شاہ دور میں سکردو میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا آغاز ہوا ہم نے حسینی چوک سے چیف انجنئیر دفتر تک احتجاج ریلی نکالا اور لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کا مطالبہ کیا
آپ نے کہا مہدی شاہ کو مذید وقت دیا جائے
اکبر تابان وزیر برقیات بنے ہم مسلسل چلاتے رہے
آپ نے کہا اکبر تابان کو وقت دیں
راجہ زکریا ائے بجلی کی لوڈ شیڈنگ عروج پر پہنچا ہم نے غواڑی شغر تھنگ اور ہرپوہ پر کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا
آپ نے پھر کہا راجہ زکریا کو وقت دیں سکردو سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ راجہ صاحب کریں گے
راجہ صاحب نے بھی پانچ بجلی گھر منظوری کا شوشہ چھوڑ کر پانچ سال گلگت جا بیٹھے
ہم نے مولوی سلیم . شیخ نثار . اغا عباس . وزیر ولایت . میثم کاظم . اشرف صدا . وزیر اخلاق . ریحانہ عبادی . کلثوم فرمان . کنیز فاطمہ سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو وقت دئے
مگر لوڈ شیڈنگ جاری رہا
ابھی سید توقیر مہدی شاہ کا بھی ایک سو بیس دن پورے ہو رہا ہے مگر لوڈ شیڈنگ میں مذید اضافہ ہوا ہے
طورمیک دو میگاواٹ . مہدی اباد تین میگاواٹ . کچورہ سوق دو میگاواٹ . تیس میگاواٹ سولر انرجی یہاں تک چالیس دنوں سے طولتی کا ٹوٹا پائب اور واپڈا کی مشینیں مرمت نہیں ہو رہا ہے
قوم سے سوال ہے صوبائی حکومت اور توقیر مہدی شاہ سے کام لینا ہے یا سابق نمائندوں کی طرح اس کو بھی مذید وقت دینا ہے
سکردو سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کےلئے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا پڑے گا اور یہ حکومت اور منتخب نمائندے ہی کر سکتا ہے
حکومت بجلی کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے اس کا اندازہ چار ماہ قبل سیلاب متاثرہ طومیک بجلی گھر کا چینل کی ابھی تک مرمت نہ کرنے اور طولتی بجلی گھر کا ٹوٹا پائپ کا چالیس دنوں سے تبدیل یا مرمت نہ کرنے اور سولر انرجی پراجیکٹ دو سالوں سے ٹینڈر ٹینڈر کھیلنے سے سے لگایا جا سکتا ہے
اب فیصلہ قوم نے کرنا ہے: مزید وقت دینا ہے یا سکردو کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کرنا ہے؟





