
سبق نمبر 14 🌱 زندگی کی کلاس — جو سکول نے نہیں سکھایا | Shyok Times

زندگی کی کلاس — سبق 14
تحریر: انجنیر امتیاز بلتستانی (واشنگٹن ڈی سی
)

خاموشی، عقل کی زینت ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگوں کا ایک مسئلہ ہے کہ جو بات دل میں آئے، زبان فوراً باہر نکال دیتی ہے!
کوئی بحث شروع ہوئی نہیں کہ ہم جج بھی بن گئے، وکیل بھی، گواہ بھی اور فیصلہ بھی سنا دیا!
حالانکہ بعض اوقات خاموش رہ جانا ہی سب سے سمجھدار جواب ہوتا ہے۔
آپ نے دیکھا ہوگا:
کسی نے غصے میں آپ کو کچھ کہہ دیا۔
آپ بھی فوراً جواب دے سکتے ہیں…
لیکن اگر خاموش رہیں تو چند منٹ بعد وہ خود سوچتا ہے:
“شاید میں نے زیادہ بول دیا!”
WhatsApp گروپ میں کسی نے ایسی بات لکھ دی جس سے آپ کا خون کھول گیا۔
انگلیاں جواب لکھنے کے لیے تیار…
پھر عقل کہتی ہے:
“رہنے دو بھائی، کل یہی میسج ثبوت بن جائے گا!”

تو کبھی کبھی صحیح ہونے کے باوجود خاموش رہنا گھر کا سکون بچا لیتا ہے۔

ہر بات کا جواب فوراً دینا ضروری نہیں۔
کبھی اپنے کام کو بولنے دیں۔
اچھا کام لمبی تقریر کا محتاج نہیں ہوتا۔

خاموشی اختیار کرنا صرف عقل نہیں بلکہ کردار بھی ہے۔
ہر راز جو ہمیں معلوم ہو، ضروری نہیں کہ دنیا کو بھی معلوم ہو۔
یاد رکھیں:
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں،
ہر بحث جیتنا ضروری نہیں،
اور ہر شخص کو اپنی صفائی دینا بھی ضروری نہیں۔
کچھ لوگوں کو جواب دینے سے بہتر ہے انہیں ان کی اپنی باتوں کے ساتھ چھوڑ دیا جائے۔
خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کمزور ہیں۔
کبھی خاموشی کا مطلب ہوتا ہے:
“میں سمجھ گیا ہوں، لیکن اس بحث میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔”
اور کبھی خاموشی یہ کہتی ہے:
“میں بول سکتا ہوں، مگر میں جانتا ہوں کہ کب بولنا ہے اور کب نہیں۔”

اصل عقل یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو کہ کہاں جواب دینا ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے۔
آخر میں ایک چھوٹی سی بات:
زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں آتی،
لیکن زبان روک لینے کا افسوس بہت کم ہوتا ہے۔

آپ کی زندگی میں وہ کون سا موقع تھا جب آپ نے خاموش رہ کر ایک بڑی مصیبت سے خود کو بچایا؟

شاید آپ کی ایک بات کسی اور کے کام آ جائے۔






