Last Updated:

🌱 زندگی کی کلاس — جو سکول نے نہیں سکھایا 🫣

📖
سبق نمبر 2
انجینئر امتیاز بلتستانی (واشنگٹن ڈی سی
🇺🇸
)
موضوع: سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ انسان اپنے عیب نہ دیکھ سکے
ایک لمحے کے لیے تصور کریں…
آپ کے چہرے پر سیاہی کا ایک بڑا نشان لگا ہوا ہے، لیکن آپ کے پاس آئینہ نہیں۔
آپ پورا دن لوگوں سے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ ہنستے ہیں، کچھ نظریں چرا لیتے ہیں، کچھ اشارے کرتے ہیں… مگر آپ کو لگتا ہے کہ مسئلہ سب میں ہے، آپ میں نہیں۔
اب ذرا سوچیں…
اگر انسان کے کردار پر غرور، حسد، غصہ، جھوٹ، وعدہ خلافی یا بدتمیزی کے داغ لگ جائیں، تو کیا ان کے لیے بھی کوئی آئینہ ہوتا ہے؟
جی ہاں… ہوتا ہے۔
وہ آئینہ ہے خود احتسابی۔
حضرت علیؑ نے کتنی خوبصورت بات فرمائی:
“سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ انسان اپنے عیب نہ دیکھ سکے۔”
یہ جملہ چھوٹا ضرور ہے، مگر اگر اس پر عمل کر لیا جائے تو انسان کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ…
ہمیں دوسروں کی غلطیاں دور سے نظر آ جاتی ہیں۔
* فلاں بہت غصہ کرتا ہے۔
* فلاں مغرور ہے۔
* فلاں بات نہیں مانتا۔
* فلاں وقت کا پابند نہیں۔
لیکن جب یہی بات ہماری اپنی ہو…
تو ہم کہتے ہیں:
“میں تو صرف سچ بولتا ہوں۔”
“میرا غصہ جائز تھا۔”
“میں مجبور تھا۔”
“سب ایسے ہی کرتے ہیں۔”
ہم اپنی غلطیوں کو وجہ بنا دیتے ہیں، اور دوسروں کی غلطیوں کو عیب۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنی ترقی روک دیتا ہے۔
ایک چھوٹا سا تجربہ کریں…
آج کسی کی برائی تلاش کرنے کے بجائے اپنی صرف ایک کمزوری تلاش کریں۔
یقین کریں، یہ کام دس لوگوں کی غلطیاں نکالنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے…
اور کہیں زیادہ فائدہ مند بھی۔
یاد رکھیں…
جو شخص اپنی غلطی مان لیتا ہے، وہ ہار نہیں جاتا… بلکہ سیکھ جاتا ہے۔
جو اپنی اصلاح شروع کر دیتا ہے، وہ دوسروں پر تنقید کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا۔
اور خوبصورت بات یہ ہے کہ…
جب آپ خود بہتر ہونا شروع ہوتے ہیں تو آپ کے بچے، دوست، خاندان اور معاشرہ بھی آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔
دنیا بدلنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنے آپ کو بدلیں۔
آج کا ہوم ورک
آج رات سونے سے پہلے اپنے موبائل کو پانچ منٹ کے لیے ایک طرف رکھ دیں۔
پھر ایک کاغذ لیں اور صرف یہ تین سوال لکھیں:
  •  میری سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟
  • کیا میں اس کمزوری کو تسلیم کرتا ہوں؟
  • کل صبح اٹھ کر میں اسے بہتر بنانے کے لیے پہلا قدم کیا اٹھاؤں گا؟
ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد کمنٹس میں صرف لکھیں:
“آج میں نے اپنا آئینہ دیکھ لیا۔”
یا اگر چاہیں تو اپنی ایک ایسی عادت بھی شیئر کریں جسے آپ بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عیب پہچاننے، انہیں دور کرنے، اور ہر دن پہلے سے بہتر انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اگلا سبق ان شاء اللہ جلد۔
وسلام!
التماسِ دعا