Last Updated:

استور کلالوٹ پل حادثہ: لکڑی کا پل بھی منہدم، عوام پریشان

استور کلالوٹ پل حادثہ: تعمیراتی غفلت یا حفاظتی انتظامات کی ناکامی؟

:استور
استورکلالوٹ پل حادثہ نے علاقے میں تعمیراتی منصوبوں کے دوران حفاظتی انتظامات اور عوامی آمدورفت کے متبادل انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 2 نومبر 2026 کو گاؤں کلالوٹ میں نئے آر سی سی (RCC) پل کی تعمیر کے دوران گرڈر نصب کرنے کا عمل اس وقت حادثے کا شکار ہو گیا جب گرڈر اٹھانے کے لیے استعمال ہونے والا ستون اچانک گر گیا، جس کے نتیجے میں پہلے سے موجود لکڑی کا عارضی پل بھی متاثر ہو کر منہدم ہو گیا۔
مقامی ذرائع اور اہلِ علاقہ کے مطابق اس واقعے کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خوش قسمتی سے اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم پل کی تباہی نے علاقے کے مکینوں کے لیے آمدورفت کا مسئلہ سنگین بنا دیا ہے۔

تعمیراتی حفاظتی انتظامات پر سوالات

واقعے کے بعد اہلِ علاقہ نے تعمیراتی منصوبے کی منصوبہ بندی، انجینئرنگ نگرانی اور حفاظتی انتظامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پل کی تعمیر شروع کرنے سے پہلے کیا مناسب رسک اسیسمنٹ کیا گیا تھا؟ کیا موقع پر متعلقہ انجینئرز اور تکنیکی عملہ موجود تھا؟ اور کیا گرڈر نصب کرنے کے دوران ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کیے گئے تھے؟

یہ سوالات اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ واقعے کی وجوہات کا تعین تکنیکی بنیادوں پر کیا جائے اور کسی بھی ذمہ داری کا فیصلہ شفاف تحقیقات کے بعد کیا جائے۔

عوامی آمدورفت کی بحالی کا مطالبہ

اہلِ علاقہ کے مطابق لکڑی کا پل بھی متاثر ہونے کے بعد شہریوں کو آمدورفت کے لیے شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔ مقامی رہائشیوں نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ تعمیراتی محکمے اور حکومتی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متبادل راستے کا انتظام کیا جائے تاکہ طلبہ، مریضوں، خواتین، بزرگوں اور دیگر شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


مقامی آبادی نے مطالبہ کیا

 حادثے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کروائی جائیں۔
 گرڈر نصب کرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور تعمیراتی طریقہ کار کا تکنیکی معائنہ کیا جائے۔
 متعلقہ انجینئرز، ٹھیکیدار اور تعمیراتی عملے کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
 غفلت ثابت ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے۔
 عوامی آمدورفت کے لیے فوری طور پر محفوظ متبادل راستہ فراہم کیا جائے۔
 آر سی سی پل کی تعمیر مقررہ انجینئرنگ اور حفاظتی معیارات کے مطابق مکمل کی جائے۔

کلالوٹ پل کی تعمیر اور سرکاری نگرانی کا معاملہ

سرکاری دستاویزات کے مطابق گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (GB PPRA) پر 7 مئی 2025 کو کلالوٹ اور بنوش منی مرگ استور میں 38 میٹر طویل آر سی سی پلوں کے ڈیزائن، تخمینے اور PC-I کی تیاری کے لیے انجینئرنگ خدمات کی بھرتی کا اشتہار موجود ہے۔ یہ دستاویز کلالوٹ پل کے منصوبے کی سرکاری نوعیت کی تصدیق کرتی ہے، تاہم 2 نومبر کے حادثے کی وجوہات یا کسی کی ذمہ داری ثابت نہیں کرتی۔ 

انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل

اہلِ علاقہ نے حکومت، ضلعی انتظامیہ استور اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے کو معمول کا تعمیراتی حادثہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک تعمیراتی مقام کو محفوظ بنایا جائے اور شہریوں کے لیے متبادل راستے کا فوری بندوبست کیا جائے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں صرف تعمیراتی کام شروع کرنا کافی نہیں، بلکہ منصوبہ بندی، انجینئرنگ نگرانی، رسک اسیسمنٹ اور عوامی تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دینا ضروری ہے۔

پل آج نہیں تو کل تعمیر ہو سکتا ہے، لیکن انسانی جان دوبارہ واپس نہیں آ سکتی۔ حکام کسی بڑے سانحے کا انتظار کیے بغیر فوری اقدامات کریں۔

اہم سوالات جن کے جواب ضروری ہیں

- گرڈر نصب کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ستون یا رسی کیوں ناکام ہوئی؟
- کیا تعمیراتی کام سے پہلے حفاظتی جائزہ لیا گیا تھا؟
- کیا موقع پر مستند انجینئرز اور تکنیکی عملہ موجود تھا؟
- لکڑی کے متبادل پل کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا؟
- متاثرہ آبادی کی آمدورفت بحال کرنے کی ذمہ داری کس ادارے کی ہے؟