Last Updated:

گاؤں کی زندگی: ویکسینیشن کے لیے ڈاکٹر عدنان شاہین کی جدوجہد، ایک آنکھوں دیکھا حال

بلغار، ڈاغونی اور کھرکوہ میں ویکسینیشن مہم کے دوران ایک اہم

خپلو گنگچھے

خزاں کے رنگوں کو کیمرے میں محفوظ کرنے کے لیے کھرکوہ، بلغار کی جانب سفر کا اتفاق ہوا، لیکن اس سفر میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے خوبصورت قدرتی مناظر سے زیادہ توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ کہانی ایک ایسے ڈاکٹر کی ہے جو دور دراز پہاڑی علاقوں میں بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔

علی الصبح ڈاغونی کے ایک چھوٹے سے محلے میں پہنچا تو وہاں محکمۂ صحت کی ایک گاڑی کھڑی دکھائی دی۔ اس دشوار گزار علاقے میں سرکاری طبی گاڑی کی موجودگی نے تجسس پیدا کیا۔ اسی دوران محکمۂ صحت کے ڈاکٹر عدنان شاہین سے ملاقات ہوئی۔ خیریت دریافت کرنے اور گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ آئی او اے ویکسینیشن مہم کے سلسلے میں بلغار، ڈاغونی اور کھرکوہ کے مختلف علاقوں اور ہسپتالوں کے دورے پر تھے۔

تاہم، اس روز کی اصل کہانی خزاں کے دلکش مناظر نہیں بلکہ ایک بچے کی ویکسینیشن کے لیے کی جانے والی کوشش تھی۔

ڈاکٹر عدنان شاہین کی تیسری کوشش بھی ناکام

ڈاکٹر عدنان شاہین نے بتایا کہ ایک مقامی خاندان اپنے بچے کو ویکسین پلانے سے انکار کر رہا ہے۔ یہ تیسرا موقع تھا جب وہ خود اپنی ٹیم کے ہمراہ اس گھر پہنچے تھے تاکہ والدین کو ویکسین کی اہمیت سمجھا کر بچے کو حفاظتی ویکسین دینے پر آمادہ کر سکیں۔

یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی کہ مجھے بھی اس خاندان سے ملنے کا موقع دیا جائے تاکہ صورتِ حال کو قریب سے دیکھ سکوں۔

ڈاکٹر صاحب کے ہمراہ جب ہم اس گھر پہنچے تو بچے کی والدہ نے ایک مرتبہ پھر ویکسین پلانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر انہیں اس کی اجازت نہیں دے رہے۔

ڈاکٹر عدنان شاہین نے بچے کے والد سے رابطہ کیا اور انکار کی وجہ دریافت کی۔ خاندان کی جانب سے بتایا گیا کہ بچے کو بخار ہے، جس کی وجہ سے وہ ویکسینیشن کے حوالے سے مطمئن نہیں تھے۔

ڈاکٹر صاحب نے انہیں یقین دلایا کہ وہ علاقے کے میڈیکل آفیسر ہیں اور بچے کا معائنہ کرنے کے بعد مناسب طبی رہنمائی فراہم کریں گے۔ بچے کا معائنہ کیا گیا تو وہ بظاہر صحت مند دکھائی دے رہا تھا۔

اس کے بعد ڈاکٹر عدنان شاہین نے نہایت تحمل، شفقت اور ذمہ داری کے ساتھ والدین کو ویکسینیشن کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بار بار درخواست کی کہ وہ بچے کی صحت اور مستقبل کے پیشِ نظر طبی مشورے پر غور کریں، لیکن اس مرتبہ بھی خاندان کو آمادہ کرنے میں کامیابی نہ مل سکی۔

یہ منظر میرے لیے محض ایک طبی مہم کا مشاہدہ نہیں تھا، بلکہ دیہی معاشرے میں صحت سے متعلق آگاہی، خاندانی فیصلوں اور عوامی اعتماد کی اہمیت کو سمجھنے کا ایک موقع بھی تھا۔

بچوں کی ویکسینیشن کیوں ضروری ہے؟

بچوں کی ویکسینیشن کئی سنگین اور قابلِ تدارک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ پاکستان کا توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) بچوں کو مختلف بیماریوں، جن میں پولیو، خسرہ، تپِ دق اور دیگر ویکسین سے قابلِ تدارک امراض شامل ہیں، سے محفوظ رکھنے کے لیے کام کرتا ہے۔ 

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، منظور شدہ ویکسینز کی حفاظت اور افادیت کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے اور ان کے استعمال کے بعد بھی حفاظتی نگرانی جاری رہتی ہے۔ بعض ویکسینز کے بعد ہلکا بخار یا انجیکشن کی جگہ درد جیسی عارضی علامات سامنے آ سکتی ہیں، جبکہ سنگین مضر اثرات انتہائی نایاب ہوتے ہیں۔ 

اگر کسی بچے کو بخار ہو یا والدین کو اس کی صحت کے حوالے سے کوئی تشویش ہو تو انہیں چاہیے کہ ویکسینیشن سے پہلے مستند طبی اہلکار سے مشورہ کریں۔ بچے کی عمر، علامات، ویکسین کی نوعیت اور طبی تاریخ کے مطابق فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ محض خدشات کی بنیاد پر ویکسینیشن ترک کرنے کے بجائے مستند طبی رہنمائی حاصل کرنا زیادہ مناسب راستہ ہے۔

پاکستان میں سرکاری توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے تحت بچوں کے لیے معمول کی ویکسینیشن کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ والدین اپنے علاقے کے سرکاری مرکزِ صحت یا متعلقہ ویکسینیشن ٹیم سے بچے کے مقررہ شیڈول اور رہ جانے والی خوراکوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ 

ویکسینیشن میں رکاوٹیں: آگاہی، اعتماد اور مکالمے کی ضرورت

اس واقعے نے میرے ذہن میں کئی سوالات پیدا کیے۔ ایک طرف محکمۂ صحت کا عملہ گھر گھر جا کر بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے کوششیں کر رہا تھا، جبکہ دوسری طرف ویکسین سے متعلق خدشات اور خاندانی فیصلے ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ہر خاندان کے انکار کے پیچھے ایک ہی وجہ نہیں ہوتی۔ بعض والدین کو ممکنہ مضر اثرات کا خوف ہوتا ہے، بعض کو ویکسین کے بارے میں درست معلومات میسر نہیں ہوتیں، جبکہ کچھ خاندان سماجی اثرات یا ذاتی تجربات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔

ایسے حالات میں صرف اصرار کرنا ہمیشہ کافی نہیں ہوتا۔ والدین کی بات توجہ سے سننا، ان کے سوالات کے واضح جواب دینا، غلط فہمیوں کو دور کرنا اور طبی عملے پر اعتماد پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

خصوصاً دور دراز پہاڑی علاقوں میں، جہاں صحت کی سہولیات تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے، مقامی آبادی کے ساتھ مسلسل رابطہ اور قابلِ اعتماد طبی رہنمائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر تک معاملہ پہنچانے کی کوشش

میں نے ڈاکٹر عدنان شاہین سے درخواست کی کہ اس معاملے کو متعلقہ انتظامی حکام کے سامنے بھی رکھا جائے تاکہ خاندان کے خدشات دور کرنے اور بچے کی ویکسینیشن کے لیے مناسب رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

ڈاکٹر صاحب نے میری تجویز سے اتفاق کیا اور ہم اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر پہنچے، جہاں صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا۔

اس مرحلے پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی خاندان کو طبی فیصلے پر آمادہ کرنے کے لیے معلومات، مکالمے اور متعلقہ طبی و انتظامی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں بچے کی صحت اور مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے قانونی اور طبی طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔

اس واقعے کے بعد میرے ذہن میں سب سے نمایاں بات ڈاکٹر عدنان شاہین کی فرض شناسی تھی۔ وہ صرف ایک گھر تک محدود نہیں تھے، بلکہ علاقے کے مختلف مقامات پر جا کر اپنی ذمہ داری ادا کر رہے تھے۔ ان کی کوشش اس بات کی مثال تھی کہ عوامی صحت کی خدمت صرف ہسپتال کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتی۔

دشوار گزار پہاڑوں میں طبی عملے کی خاموش خدمات

گلگت بلتستان جیسے پہاڑی خطے میں دور دراز آبادیوں تک صحت کی سہولیات پہنچانا کئی عملی مشکلات کا تقاضا کرتا ہے۔ دشوار گزار سڑکیں، بکھری ہوئی آبادیاں اور محدود وسائل طبی عملے کی ذمہ داریوں کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔

ایسے علاقوں میں گھر گھر جا کر بچوں کی ویکسینیشن کے لیے والدین سے رابطہ کرنا، ان کے خدشات سننا اور انہیں مستند معلومات فراہم کرنا عوامی صحت کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔

یہ خدمات اکثر خبروں کی نمایاں سرخیوں میں جگہ نہیں بنا پاتیں، لیکن ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ بروقت ویکسینیشن، بیماریوں سے بچاؤ اور صحت سے متعلق آگاہی آنے والی نسلوں کی بہتر صحت میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عدنان شاہین جیسے اہلکاروں کی کوششیں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ ایک مؤثر طبی نظام کے لیے صرف عمارتیں اور ادویات ہی کافی نہیں، بلکہ ایسے افراد بھی ضروری ہیں جو مشکل حالات میں لوگوں تک پہنچنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

والدین، طبی عملے اور انتظامیہ کی مشترکہ ذمہ داری

بچوں کی صحت کا تحفظ صرف محکمۂ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں والدین، مقامی برادری، طبی عملے اور متعلقہ انتظامی اداروں سب کا کردار ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ ویکسینیشن سے متعلق سوالات بلاجھجھک طبی اہلکاروں سے پوچھیں۔ اگر بچے کو بخار یا کوئی اور علامت ہو تو اس کی کیفیت واضح طور پر بتائیں تاکہ مناسب طبی مشورہ دیا جا سکے۔

دوسری جانب، محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام سے احترام کے ساتھ پیش آئیں، طبی معلومات سادہ زبان میں سمجھائیں اور کسی بھی تشویش کو سنجیدگی سے لیں۔ مقامی انتظامیہ بھی آگاہی مہمات اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کو مؤثر بنانے میں معاون کردار ادا کر سکتی ہے۔

ویکسینیشن کے حوالے سے اعتماد پیدا کرنا ایک مسلسل عمل ہے۔ اس کے لیے معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عوام کے تجربات اور خدشات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

ایک سفر، ایک مشاہدہ اور ایک اہم سبق

آج میں خزاں کے رنگوں کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے کے لیے نکلا تھا۔ خیال تھا کہ پہاڑوں، درختوں اور بدلتے موسم کے خوبصورت مناظر کے ساتھ واپس لوٹوں گا، لیکن اس سفر میں ایک ڈاکٹر کی محنت اور دیہی زندگی کی ایک ایسی حقیقت سامنے آئی جس نے مجھے زیادہ متاثر کیا۔

ڈاکٹر عدنان شاہین کی کوششوں نے یہ احساس دلایا کہ خدمت کا اصل مفہوم صرف اپنے فرائض کی ادائیگی نہیں، بلکہ مشکل حالات میں بھی لوگوں کی صحت اور بہتری کے لیے مسلسل کوشش کرنا ہے۔

اس واقعے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے: بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے طبی مہارت کے ساتھ اعتماد، آگاہی اور مؤثر رابطہ بھی ضروری ہے۔ کسی خاندان کے انکار کو محض ضد قرار دے کر نظرانداز کرنے کے بجائے اس کی وجوہات سمجھنا اور درست معلومات فراہم کرنا زیادہ پائیدار حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ہمیں ان تمام طبی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو دور دراز علاقوں میں عوام کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ ان کی محنت کو تسلیم کرنا اور صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

کیونکہ بعض اوقات کسی معاشرے کی اصل خوبصورتی اس کے قدرتی مناظر میں نہیں، بلکہ ان لوگوں کے کردار میں نظر آتی ہے جو خاموشی سے دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

— عرفان شاہ