Last Updated:

گلگت بلتستان میں شیعہ سنی اتحاد اور امن کی اپیل

Najaf Ali Shia Sunni Itehad
میرے گلگت اور دیامر کے علما کرام اور معززین
انیس سو اٹھاسی سے قبل گلگت بلتستان میں کوئی شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں تھا
مئی انیس اٹھاسی معرکہ شیعہ نسل کشی میں دو سو مرد و خواتین شہید ہوئے
امپھری سنیوں کے لئے اور کثروٹ شیعوں کے لئے نو گو ایریاز بن گیا . شاہراہ قراقرم شیعہ مسلمانوں کے لئے غیر محفوظ ہوا
ہم نے انیس سو اٹھاسی سے دو ہزار بارہ تک آغا ضیا الدین. ائی جی سخی اللہ ترین . لطیف حسن . ڈاکٹر شیر ولی اور طیغون نبی جیسے قد آور شخصیات سمیت دو سو پچاس قیمتی جانیں کھو دئے
بلتستان والوں نے کوہستان . بابو سر . لو لو سر . چلاس . جگلوٹ اور پڑی سے لاشیں اٹھائی
آغا ضیاالدین کی شہادت کے رد عمل میں سکردو میں اہل سنت کے املاک سمیت مساجد اور مدرسے کو نقصان پہنچائے
گلگت میں کئی بار کرفیو لگے اور دونوں مساجد کو تالے لگے
رینجرز کی فائرنگ سے پانج نوجوان اور تین خواتین شہید ہوئی
غرض سینکڑروں خواتین بیوہ کئی بچے یتیم بہت سارے نوجوان جیلوں میں اور کئی نوجوان مفرور ہونے پر مجبور ہوئی
کیا ہمیں اندازہ ہے کہ جن گھروں کے سربراہان شہید ہوا ہےان کے گھر والوں پر کیا کچھ گزر رہا ہوگا
معاملہ یہاں تک نہیں رکا سکردو میں آغا باقر کے خلاف ایف ائی آر غواڑی میں دو سال سخت کشیدگی اور پچھلے سال قاضی نثار احمد پر قاتلانہ حملے تک ہوئے
اب کئی سالوں سے گلگت اور دیامر کے علما کافی سنجیدہ ہوا ہے
سنی سبیل امام حسین اور مجالس میں شرکت اور شیعہ علما تبلیغی اجتماعات میں شرکت کرکے مسلکی چورن بیچنے والوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے
اب کسی کو گلگت کثروٹ . امپھری . بارگو چلاس . داریل . تانگیر میں جاتے ہوئے کوئی دقت محسوس نہیں ہوتا
اب محرم یا اور کوئی مذہبی تہوار یا ایام آتے ہوئے کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں ہوتا
اب گلگت میں شام پانچ بجے دوکانیں بند کرنا نہیں پڑ رہا ہے
کل راجہ ناصر کا کوئی ویڈیو کلپ شئیر کرکے گلگت بلتستان کا پر امن فضا کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ راجہ ناصر کا معزرت اور معافی کے بعد ختم کیا جانا چاہئے
شیعہ سنی اسماعیلی نورخشی شین یشکن بلتی گلگتی چلاسی نگری ایک حقیقت ہے اور قیامت تک باقی رہنا ہے
کون کافر کون مسلمان کون جنتی کون دو زخی اس کا فیصلہ خدا کو کرنے دیں
گلگت بلتستان ہماری دھرتی ماں اور ہماری جنت ہے
اس کو کسی ان دیکھی جنت کے نام پر دوزخ نہ بنائیں
شکریہ