
بلتستان یونیورسٹی پر چند خاندانوں کا اثر؟ | Shyok Times
بلتستان یونیورسٹی میں میرٹ کا سوال: چند خاندانوں کی اجارہ داری کب تک؟
بلتستان یونیورسٹی میں میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی خودمختاری کا سوال ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کسی بھی سرکاری جامعہ کی اصل طاقت اس کی علمی آزادی، اہل اساتذہ، شفاف تقرریوں اور طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے۔ اگر کسی ادارے کے فیصلوں پر ذاتی تعلقات، گروہی وابستگیوں یا بااثر حلقوں کے اثرانداز ہونے کے خدشات پیدا ہوں تو ان کا شفاف اور غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
بلتستان یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ پورے خطے کے نوجوانوں کی امیدوں، علمی ترقی اور روشن مستقبل سے وابستہ ایک اہم قومی اثاثہ ہے۔ اس لیے اس کے انتظامی فیصلوں، بھرتیوں اور تعلیمی پالیسیوں پر سوال اٹھانا محض تنقید نہیں بلکہ عوامی مفاد سے جڑا معاملہ ہے۔
بلتستان یونیورسٹی میں میرٹ اور گروہی سیاست کا سوال
اس تحریر میں اٹھائے گئے بنیادی اعتراضات میں یہ تاثر شامل ہے کہ یونیورسٹی کے معاملات میں بعض بااثر افراد اور گروہوں کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔ مصنف کے مطابق، ماضی میں نعیم اختر کے گرد جمع رہنے والے بعض حلقوں کے بارے میں اب مسعود اختر کے قریب ہونے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔
تاہم، کسی فرد یا گروہ کے بارے میں ایسے دعووں کا درست تعین کرنے کے لیے ٹھوس شواہد، متعلقہ فیصلوں کا ریکارڈ اور تمام فریقوں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔ اصل سوال کسی شخصیت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یونیورسٹی کے فیصلے واضح قواعد، اہلیت اور ادارہ جاتی ضرورت کے مطابق کیے جا رہے ہیں؟
اگر تقرریوں، ترقیوں اور انتظامی ذمہ داریوں کی تقسیم میں میرٹ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے تو ادارے کو اپنے طریقۂ کار اور فیصلوں کی شفافیت کے ذریعے اس اعتماد کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔
بھرتیوں میں شفافیت کیوں ضروری ہے؟
جامعات میں اساتذہ کی بھرتیاں کسی بھی ادارے کے علمی مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔ ایک اہل استاد نہ صرف طلبہ کو معیاری تعلیم دیتا ہے بلکہ تحقیق، علمی مباحثے اور نئی نسل کی فکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یونیورسٹی آف بلتستان کی ویب سائٹ پر دستیاب قواعد کے مطابق، تقرریوں کے لیے میرٹ اور مقررہ طریقۂ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ادارے کی انسانی وسائل سے متعلق جائزہ کمیٹی نے بھی منظور شدہ خالی آسامیوں کو مرحلہ وار پُر کرنے، تدریسی ضروریات کا جائزہ لینے اور متعلقہ قواعد و ہدایات کے مطابق بھرتیوں کی منصوبہ بندی پر زور دیا ہے۔
ان اصولوں کی روشنی میں ضروری ہے کہ ہر آسامی کے لیے اہلیت کا معیار واضح ہو، امیدواروں کی جانچ منصفانہ انداز میں کی جائے، انتخاب کی وجوہات ریکارڈ پر موجود ہوں اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
قابل اساتذہ کا تحفظ اور تعلیمی معیار
کسی بھی جامعہ کا تعلیمی معیار اس کے اساتذہ کی قابلیت، تحقیق کے مواقع اور پیشہ ورانہ ماحول سے براہِ راست وابستہ ہوتا ہے۔ اگر قابل اساتذہ ادارے میں خود کو غیر محفوظ، نظرانداز شدہ یا ترقی کے مواقع سے محروم محسوس کریں تو اس صورتِ حال کا سنجیدہ جائزہ لینا چاہیے۔
اصل تحریر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ گروہی دباؤ اور ناموافق ماحول کے باعث بعض پی ایچ ڈی اور ایم فل اساتذہ کو جامعہ چھوڑنا پڑا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ اساتذہ کے بیانات، استعفوں کی وجوہات اور یونیورسٹی کا مؤقف سامنے لانا ضروری ہے۔
اگر ایسے معاملات پیش آئے ہیں تو انتظامیہ کو ان کی وجوہات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر مناسب اصلاحی اقدامات کرنے چاہییں۔ ادارے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اساتذہ ملازمت کیوں چھوڑ رہے ہیں، انہیں کن انتظامی یا پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہے اور ان مسائل کو کس طرح حل کیا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی کے انتظامی فیصلوں پر عوامی نگرانی
یونیورسٹی آف بلتستان کے انتظامی ڈھانچے میں سینیٹ اور سنڈیکیٹ جیسے قانونی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کی سرکاری معلومات کے مطابق، سینیٹ ادارے کے عمومی معاملات کی نگرانی کرتی ہے، جبکہ سنڈیکیٹ انتظامی، مالی اور عملی امور سے متعلق فیصلوں میں کردار ادا کرتی ہے۔
ان اداروں کی ذمہ داری ہے کہ تقرریوں، ترقیوں، اساتذہ کی فلاح، تعلیمی منصوبہ بندی اور انتظامی فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کریں۔ جہاں قواعد کی خلاف ورزی یا غیر منصفانہ سلوک کی شکایت سامنے آئے، وہاں مناسب طریقۂ کار کے تحت اس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔
عوامی نگرانی کا مقصد کسی فرد کو ہدف بنانا نہیں، بلکہ ادارے کو جواب دہ، مضبوط اور قابلِ اعتماد بنانا ہونا چاہیے۔
اہلِ علاقہ اور طلبہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
بلتستان یونیورسٹی کے مستقبل سے طلبہ، اساتذہ، والدین، سابق طلبہ اور پورا خطہ وابستہ ہے۔ اس لیے متعلقہ حلقوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر چند بنیادی مطالبات پر توجہ دیں:
تمام بھرتیوں اور تقرریوں میں واضح اور یکساں میرٹ پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے۔
آسامیوں کے اشتہارات، اہلیت کے معیار اور انتخابی طریقۂ کار کو قابلِ رسائی بنایا جائے۔
اساتذہ کی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اور غیر جانب دارانہ نظام قائم کیا جائے۔
مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کا شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔
طلبہ کے تعلیمی معیار، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کو انتظامی ترجیحات میں شامل رکھا جائے۔
یہ مطالبات کسی ایک شخصیت یا گروہ کے خلاف نہیں بلکہ ادارے کی بہتری کے لیے ہونے چاہییں۔
بلتستان یونیورسٹی کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں
بلتستان یونیورسٹی عوامی مفاد سے وابستہ ایک علمی ادارہ ہے۔ اس کی ساکھ کسی ایک عہدے دار، خاندان یا گروہ سے نہیں بلکہ اس کے تعلیمی معیار، شفاف انتظام اور اہل اساتذہ کی کارکردگی سے قائم ہوتی ہے۔
اگر میرٹ کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں تو ان کا جواب ذاتی حملوں یا خاموشی سے نہیں، بلکہ شواہد، شفاف تحقیقات اور واضح اصلاحات سے دیا جانا چاہیے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ اہم تقرریوں اور انتظامی فیصلوں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرے اور جائز سوالات کا جواب دے۔
آخرکار، اصل سوال یہی ہے: کیا بلتستان یونیورسٹی میں فیصلوں کی بنیاد قابلیت، شفافیت اور تعلیمی ضرورت ہوگی، یا ذاتی تعلقات اور بااثر حلقوں کے بارے میں اٹھنے والے خدشات ادارے پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتے رہیں گے؟
اس سوال کا جواب نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دیا جا سکتا ہے۔ بلتستان کے نوجوانوں کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو گا جب یونیورسٹی کو شخصیات اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر رکھ کر ایک خودمختار، شفاف اور معیاری تعلیمی ادارے کے طور پر مضبوط بنایا جائے گا۔





